Category

Urdu

Purpose of Creation – Conclusion (Urdu Translation)

By | Conclusion, Translation, Urdu | No Comments

نتیجہ 

تخلیق کے مقصد کے علم کے بغیرانسان بے مقصد، جیسے کشتی بغیر پتوار، اپنے غلط اہداف، غلط  مذ ہبی تعلیمات اور مادیت پرستی کی وجہ سے، زندگی بھٹکتے ہوۓ گزارتا ہے ، ۔ چنانچہ وہ دنیا کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ ان کی بہتری کے لۓ، اسی لۓ یہ نہایت اہم ہے،کہ وہ یہ جانتے ہوں کہ اللہ ﷻ  نے ان کو کیوں بنایا۔

 بنیادی طور پر، اللہ ﷻ نے اپنی مخلوق میں اپنی صفات کو ظاہر کرنے کے لئے پیدا کیا۔ لہذا مخلوق اس کے خالق ہونے کا نتیجہ ہے، جنت اس کی رحمت اورفضل ، جہنم اس کے انصاف، انسان کی

غلطیوں میں اس کی بخشش، زندہ اور بیجان میں اس کی سخاوت کا اظہار ہے  وغیرہ ۔

ان مقاصد کا علم ہونا نہایت اہم ہے تاکہ اللہ ﷻ کو صحیح طور سے پہچانا جاسکے،اس کے فیصلوں کواوراپنی تقدیر کو تسلیم کیا جاسکے۔

البتہ، اس سے بھی زیادہ یہ اہم ہے کہ انسان کو اپنی تخلیق کا مقصد معلوم ہو۔ آخری وحی ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ تخلیق کا مقصد اللہ ﷻ کی عبادت کرنا ہے۔ صرف اس کے بعد ہی  جنت میں داخل

 ہونے کے لۓ،  وہ راستبازی اور ضروری روحانی حیثیت حاصل کرسکتے ہیں ۔

عبادت،اتنی ہی  زیادہ ضروری ہے جیسے کہ کھانا کھانا اور سانس لینا اور یہ کرکے وہ اللہ ﷻ پر

کوئ احسان نہیں کرتے۔

یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ انسان اس دنیوی نعمتوں اور امتحانات، کی اہمیت کو سمجھے ورنہ   امکان ہے کہ وہ اس دنیا کواپنے لۓ دشمن سمجھنے لگے۔

 اللہ ﷻ نے بنیادی طور پر یہ سب ان کے فائدے کے لئے پیدا کیا۔ اچھے اور برے امتحان کو

 انسان کے اعلی روحانی خصوصیات کو ابھار کرنکالنے کے لئے تیارکیا گیا ۔

تاہم، انسان ان آزمائشیوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے جب تک کہ وہ اللہ ﷻ پر مکمل اعتماد نہ کریں

اور اس پر صبر کریں جو اس نے ان کے لئے مقدر کیا ہے۔

ان لوگوں کے لئے جنہوں نے اللہ ﷻ کویکسر مسترد کیا، اس دنیا کی آزمائشیں، اگلی دنیا میں ابدی

 سزا سے پہلے، اس زندگی میں ہی سزا بن جاتی ہیں۔

دنیا کی تخلیق کے مقصد کا علم مومن کو ماحول کے بارے میں باشعورکرتا ہے۔

انسان ذمہ دار ہے کہ زندگی کی نعمتوں کو عدل کے ساتھ استعمال کرے۔ زمین اور سمندر کی

 مخلوقات، نباتات اور ماحول سب اس کی نگرانی میں دے دۓ گۓ ہیں۔

نتیجتا، انسان کواللہ ﷻ سے اپنے شکر کا اظہار کرتے ہوۓ، بہت خیال سے ماحول کو اور اس میں

 بسنے والی مخلوق کی حفاظت کرنی چاہئیے ۔

اپنے مقصد کا اتنا جامعہ شعور انسان کو مکمل بنا دیتا ہے۔ وہ راستبازی کے راستے کی طرف

رہنمائ کرتے ہوۓ، انسانیت کے راہنما میں تبدیل ہو جاتا  ہے۔

اس کے نتیجے میں، اللہ ﷻ نے انہیں اپنی حتمی وحی میں سب سے بہترین انسانوں کے طور پر بیان کیا ہے۔

{ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ }

‘تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔۔۔ ‘( 3:110)

Purpose of Creation – Chapter # 4 (Urdu Translation)

By | 4th Chapter, Translation, Urdu | No Comments

اللہ نے دنیا کو تخلیق کیوں کیا؟

یہ دنیا اور اس کے جزیات (زمین،نباتات، دریا، جانور، آسمان، بارش وغیرہ) کی تخلیق انسان کی

 خدمت کے لۓ بناۓگۓ ہیں، جس طرح کہ قرآن میں وضاحت دی گئ (6:97; 14:32-33 )

البتہ یہ تمام تر برکتیں آتی ہیں کچھ ذمہ داریوں کے ساتھ !

چنانچہ انسان ضرور :

1 ۔  ان برکتوں کو پہچانے۔

2 ۔ ان کا استعمال اللہ ﷻ کے احکام کے مطابق کرے-

پیغمبرﷺ نے فرمایا،

” دنیا خوبصورت اور سرسبز ہے اور اللہ ﷻ نے تم کو ان پر حاکم بنایا

 تاکہ دیکھے کہ تم کیا کرتے ہو۔”

یہ حدیث نشاندہی کرتی ہے کہ انسان اللہ ﷻ کی مخلوق کے ساتھ اپنی مرضی کرنے کے لۓ

 آزاد نہیں چھوڑ دیا گیا۔  لہذا، مادی فوائد کے لۓ فطرت کو تباہ کرنا وحی الہی کے

منافی ہے-

جانوروں کی طرف انسان کی ذمہ داریاں

     جانوروں کا خیال کرنا، الہامی احکام کے مطابق اہم ہے ۔

 لوگوں نے پیغمبرﷺ سے پوچھا،

” یا رسول اللہ  ﷺ ! کیا ہمیں جانوروں کو بچانے کا انعام ملے گا؟”

 انہوں+ نے فرمایا،

” ہر ذی روح کو بچانے کے لۓ انعام ہے۔”

  1۔   تفریح ​​یا کھیل کے لئے کسی جانور کو قتل کرنا منع ہے، سواۓ اس کے کہ وہ کھانے کے ، انسانی زندگی کی حفاظت کے یا لباس کے لۓ ہو۔

  2 ۔  جانور کو ذبح کرنے کے لۓ  تیز چھری کا استعمال کرنا چاہئیے کیونکہ

 بنسبت بجلی کے جھٹکے یا جانور کے سر پر ضرب لگانے کے یہ کم تکلیف دہ

 ہوتا ہے۔

  3۔   اللہ ﷻ  نے ایک فحاشہ کو ایک پیاسے کتے کو پانی پلانے پر بخش دیا، اس

 کے بر عکس ایک عورت کو سزا وار ٹھرایا کیونکہ اس نے ایک بلی کو قید کیا

 اور بھوکا رکھا ۔

 4 ۔  کبھی کبھار جانور کو تکلیف پہنچانا ضروری ہوجاتا ہے، جیسا کہ جانور

 چلانے کے لۓ ضرب لگانا،اور شناخت کے لے مہر بندی کرنا۔ البتہ، اس صورت میں بھی چہرے پر مارنے اور مہر لگانے سے روکا گیا ہے ۔

نباتات کی مد میں انسان کی ذمہ داری

     1۔  انسان نباتاتی دنیا کا اس قدر ذمہ دار ہے۔کہ جنگ کے دوران مسلمانوں کو

 پھل دار درختوں کو تباہ کرنے سے منع  کیا گیا ہے۔

    2۔   درخت لگانا صدقہ ہے۔۔۔۔ پیغمبر ؐﷺ نے فرمایا،” جو مسلمان ایک درخت لگاتا ہے

 صدقہ کرنے کا اجر پاتا ہے۔ جو اس میں سے کھایا جاۓ صدقہ ہے،جو اس میں  سے

چوری ہو، جو جانور کھائیں یا پرندے کھائیں وہ بھی صدقہ ہے۔

    3۔   وحی الہی کے مطابق اس ذمہ داری سے غفلت گناہ ہے اور اس کو نبھانا عبادت ہے۔

Purpose of Creation – Chapter # 3 (Urdu Translation)

By | 3rd Chapter, Translation, Urdu | No Comments

اللہ نے زمین پر انسان کو کیوں تخلیق کیا ؟

 یہ ایک عام سا سوال ہےجو مسلمان یا غیر مسلمان کے دماغ میں ابھرتا ہے، کہ ‘انسان کو اللہ ﷻ نے زمین پر کیوں تخلیق کیا؟

 اللہ نے اس ‘ کیوں ‘ کے جواب میں اپنی کتاب ‘قرآن ‘میں فرمایا کہ اس نے انسان کے ایمان کو

آزمانے کے لۓ دنیا میں اس کی تخلیق کی۔

اس آزمائش کے دو بنیادی مقاصد ہیں:

1۔ انسان کی روحانی نش و نما

2۔ سزا اور جزا

یہ دنیوی آزمائشیں بنیادی طور پر روحانی نشو و نما کے لۓ ہیں۔ سخاوت اور اطمینان ایسی عظیم خصوصیات ہیں جو صرف روحانی جدوجہد سے ہی حاصل ہوتی ہیں۔

جب دولت کی ہوس بڑھتی ہے تو حسد پنپتا ہے- اس لۓ اللہ ﷻ کے شکر گزار رہو اور ہمیشہ ان کو

دیکھو جوتم سے کم خوش قسمت ہیں۔ اس منفی خصوصیت سے چھٹکارا بھی روحانی ترقی کا

حصہ ہے۔ حسد اور اطمینان ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جیسے جیسے اطمینان بڑھتا ہے حسد  میں

کمی ہوتی جاتی ہے۔

تاہم، اطمینان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں جدوجہد کرنا چھوڑ دیا

جاۓ، جبکہ اللہ ﷻ  سے مدد تلاش کرتے رہنا اور اس پر بھروسہ رکھنا چاہیۓ.

آزمائشیں اور آلام مومن کی روحانی ترقی کو بڑھانے کا باعث ہوتے ہیں۔ یہی وہ بنیاد ہے جس سےصبر کی اعلی ترین صفت پیدا ہوتی ہے۔  مصیبت کے وقت حقیقی صبر، اللہ ﷻ پر کامل بھروسے کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ اللہ آزمائش انسان کے ظرف کے مطابق دیتا ہے تاکہ اس کے اندر سے بہترین

انسان کو باہر نکالے۔

کبھی کبھی انسان آزمائشوں سے مایوسی میں گھر کر ایمان کھو دیتا ہے۔

اللہ ﷻ کی رحمت سے تو صرف کافر ہی مایوس ہوتے ہیں۔

اللہ کی رحمت سےامید رکھنا، ایمان کا لازمی جز ہے۔ جو لوگ صبر کے ساتھ صحیح کام کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں اور استقامت کے ساتھ اللہ ﷻ کے فرمابردار رہتے ہیں، انہی کے لۓ انعامات اور

ہمیشگی کی آسانیوں کا  وعدہ ہے۔

جب اللہ ﷻ کسی کے لۓ صحیح راستے کی طرف رہنمائ کا ارادہ فرماتا ہے تو یاد دہانی کے طور

 پر آزمائشیں بھیجتا ہے۔ جن کا ایمان ابھی قائم ہوتا ہے وہ اپنی غلطی کو پہچان لیتے ہیں اور اپنے

 رب کی طرف عاجزی اور سپردگی کے ساتھ پلٹ آتے ہیں اور کامیاب ہوجاتے ہیں۔

یہ آزمائشیں منافقوں کو بھی بے نقاب کرتی ہیں۔ جو لوگ بالکل ہی الہامی ھدایت اور حکمت کو

 مسترد کر دیتے ہیں، یہ ان کے لۓ سزا کا باعث ہوتی ہیں۔  ہمارے پاس گزشتہ قوموں کی مثالیں

موجود ہیں جنہوں نے الہامی ھدایت کو مسترد کیا اور نتیجتا تباہ کر دی گئیں۔

مستقل نافرمانی اللہ ﷻ کی سزا کی طرف لے جاتی ہیں۔ یہ سزائیں مختلف درجوں کی ہوتی ہیں : فرد کے درجہ پراور قوموں کے درجے پر بھی۔

اللہ ﷻ قرآن میں  سورہ 18، آیت 7 میں فرماتا ہے:

” واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی سروسامان زمین ہر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا تاکہ

 ان لوگوں کو آزمائیں کون ان میں سے اچھے عمل کرتا ہے”۔

Purpose of Creation – Chapter # 2 (Urdu Translation)

By | 2nd Chapter, Translation, Urdu | No Comments

بنایا؟ الله  تعالیٰ نے انسان کو کیوں بنا

انسان  فطرتی طورپر ہی عبادت کرنے کے واحد مقصد سے تخلیق کیا گیا – اللہ ﷻ نے انسانوں کو

 اپنی کسی ضرورت  کے لۓ نہیں بنایا  اور نہ ہی اس رب  کی شان میں کوئ کمی واقع ہوتی ہے

 اگر اس دنیا کا ایک بھی  فرد اسکی عبادت  نہ کرے- اللہ ﷻ کو قطعاً ضرورت  نہیں کہ انسان

 اسکی عبادت کرے ،بلکہ یہ تو انسان کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے خالق کی عبادت کرے-

     اللہ ﷻ کے بنائے ہوِے قوانین کی پابندی کرنے میں ہی انسان کی فلاح ہے  اور یہی واحد راستہ

 ہےجنت میں داخل ہو نےکا- انہی مقدس قوانین  کی نافرمانی نے آدمؑ اور ہواؑ کو جنت سے نکلوادیا جہاں وہ تخلیق کیۓ گۓ تھے۔

     اللہ ﷻ کو معلوم ہے کہ اسکی مخلوق کیلیے کیا  فائدہ مند ہے اور کیا نقصان دہ- چنانچہ الله  تعالیٰ کے  مقدس قوانین  صحیح اور غلط کی  خود ہی پہچان کروا دیتے ہیں- یہ قوانین  انسان کو روحانی اور سماجی برائیوں سے بچاتے ہیں۔ اسلۓانسان کو چاہئیے کہ صالح  زندگی اپنائے-

    اکثر اوقات انسان اپنی مادی ضروریات پوری کرتے کرتے اپنی روحانی ضروریات کو بھول

 جاتا ہے- اسی لیے  مختلف عبادات کے طریقے،  جن کی مقدس قوانین میں وضاحت موجود ہے

 اللہ ﷻ کی یاد کو تازہ رکھنے میں مدد گار ہوتے ہیں۔ با قاعدگی سے نماز ادا کرنے سے انسان کی

 روحانی  اور مادی ضروریات روزانہ کی بنیاد پر پوری ہوتی ہیں-  وہ ایک حقیقی مومن کے دن

 کو منظم  کرنے میں مدد گار ہوتی ہیں، انسان کا ناطہ اللہ ﷻ سے تروتازہ رہتا ہے اور زندگی کی

 مادی  اور روحانی پہلوؤں میں توازن کو فروغ ملتا ہے –

     انسان اس وقت گناہ کا شکارہوتا ہے جب وہ اپنے رب کو بھول جاتا ہے-  شیطانی قوتیں اس

 کے  ذہن میں وسوسے ڈال کر اسے گمراہ  کرنے کی کوشش کرتی ہیں-  ایک  دفعہ اللہ ﷻ بھول

 جاۓ تو  لوگوں کا برائ کرنا آسان ہو جاتا ہے-

     اسی بات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے الله  تعالیٰ نے شراب اور جوئے کو حرام قرار دیا- کیونکہ

 نشہ کی حالت میں انسان اللہ ﷻ کو بھلا بیٹھتا ہے اور یہی برائی ساری بد عنوانیوں اور فسادات کو

 جنم  دیتی ہے-

     چنانچہ اپنی فلاح اور ترقی کے لۓ اور گناہوں کی دلدل سے بچنے  کیلئےانسان کو اللہ ﷻ کو یاد رکھنا انتہائ  ضروری ہے ۔ یہ لوگ کمزور ہوتے ہیں چنانچہ اگر ان کے پاس اللہ کو یاد رکھنے کا

 ذریعہ نہ ہو تویہ گناہ کی گہرائیوں میں دھستے چلے جاتے ہیں۔  جو بھی مقدس قوانین کی پیروی

 کرتے ہیں اور اللہ کو یاد رکھتے ہیں وہی پھر توبہ بھی کرلیتے ہیں۔

     اسلام  پوری انسانیت کیلیے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے- اللہ نے نہ تو مختلف مذاہب، یہودی،

 ہندو نہ عیسائ وغیرہ بناۓ-

  انسانوں کی روحانی اور معاشرتی ضروریات یکساں ہیں۔  جب سے  آدمی اور عورت تخلیق ہوۓ ان کی فطرت نہیں بدلی ۔

 اللہ ﷻ کو اسلام کے علاوہ کوئ اور مذہب قبول نہیں۔

     اسلام کے مطابق، انسان کسی بھی کیے ہوئے عمل کو عبادت میں تبدیل کر سکتا ہے- مگر  دو

س بنیادی  شرائط کے ساتھ:

1۔ اسکے پیچھے نیت خالص اللہ ﷻ کی رضا حاصل کرناہو، نہ کہ اپنی ذات کی شناخت اور تعریف

 کے لۓ۔

2۔ ہر عمل سنت کے مطابق کیا جائے۔ تمام انبیاء نے اپنے پیروکاروں کو اپنے نقش قدم پر چلنے

 کی ہدایت کی جو خود اللہ ﷻ کی طرف سے ہدایت پر تھے۔

      چنانچہ دین میں کوئ بدعت نکالنا الله ﷻ کی نظر میں انتہائ برا عمل ہے-

  اسکے علاوہ گناہوں میں سب سے کبیرہ گناہ شرک ہے ،جو انسان کے مقصدِحیات کی سراسر

 نفی کرتا ہے- یہ گناہ ناقابلِ معافی  ہے۔ اگر کوئ توبہ کے بغیر مر جاۓ تو اللہ ﷻ باقی گناہ تو بخش

 سکتا ہے مگر شرک کبھی معاف نہیں کرے گا –

      جن لوگوں سے الله ﷻ محبت رکھتا ہے ان لوگوں سے پیار کرنا دراصل رب کو چاہنے کے مانند ہے- الله ﷻ انہیں ایمان والوں کے دل میں محبت ڈالتا ہے جو راہِ راست پر ہوں ۔

 

Purpose of Creation – Chapter # 1 (Urdu Translation)

By | 1st Chapter, Translation, Urdu | No Comments

خدا نے تخلیق کیوں کی ؟ 

انسا ن، تخلیق الہی کا محض  ایک چھوٹا سا معجزہ ہےٙ-   البتہ بہت کم لوگ اس حقیقت پر غور و

فکر کرتے ہیں۔  اس بات کو سمجھنے کے لئے کہ اللہ ﷻ نے انسان کو کیوں بنایا، پہلے یہ بات

سمجھنی زیادہ اہم ہے کہ اللہ ﷻ نے تخلیق کیوں کی؟

ایک خالق کا تخلیق نہ کرنا دو متضاد باتیں ہیں!!

چنانچہ، صحیح معنی میں تخلیق صرف اور صرف الّٰلہ ﷻ ہی کا خاصہ ہے- مگر انسان محض

اللہ ﷻ  کی بنائ ہوئ اشیاء کو استعمال کر کے چیزیں بناتا ہے- صرف اللہ ﷻ کسی اسباب کے بغیر

تخلیق کرتا ہے – مگر۔کچھ   لوگ بہت کم یہ بات سمجھ پاتے ہیں اور وہ اللہ ﷻ   کو انسانی حدود

سے پرکھتے ہیں۔

اسی لیے انسان کایہ سمجھنا انتہائ ضروری ہے،کہ اس کائنات میں اللہ ﷻ کی اجازت کے بغیر کوئ

خیر اور شر وقوع پزیر  نہیں ہو سکتا ، اور اللہ ﷻ  کے علاوہ کسی اور کیطرف رجوع کرنا بے

بالکل بے فائدہ ہے-

اللہ ﷻ نے انسان کو اچھائ اور برائ کی تمیز کیساتھ پیدا کیاہے- اللہ ﷻ کو یہ بھی معلوم تھا کہ انسان سے نافرمانیاں سرزد ہوں گیں.  اس  نے آدمؑ کی مثال قائم کر کے انسان کو معافی مانگنے کا طریقہ

سکھایا، تاکہ وہ اپنے آپ کو گناہوں سے پاک کرسکے۔

چنانچہ قرآن اور سنت میں بار بار اللہ ﷻ کی درگزر اور معاف کرنے  کی صفات کا ذکر ہے جس

سے انسان  مایوسی سے بچنے کی ترغیب ہوتی ہے –

الله  تعالیٰ نے انسان  کواجازت دی ہے کہ اپنی زندگی اپنی مرضی سےجیۓ تاکہ وہ خود جان

سکے کہ اسکا ٹھکانہ جنت ہے یا جہنم ، اور یہ کہ اس نے  یہ ٹھکانا  خود منتخب کیا ہے – اسطرح انسان اللہ ﷻ کے عادلانہ فیصلے کو قبول کرنے پر آمادہ ہو جائیگا – پھر بھی وہ  دوبارہ دنیا میں

جانے کی  بھیک مانگے گا ، تاکہ اس کو  اعمال درست کر نے کا  ایک اور موقع مل جائے-

اللہ نے اپنی کتابوں اور نبیوں کے  ذریعے انسان کی رہنمائ فرمائ اور سکھایا کہ اچھا کیا ہے ، عدل اور تقوی کیا ہے- چنانچہ جو لوگ نبیوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں وہی الله ﷻ  کے محبوب

لوگ ہوتے ہیں-

یوں توجنت میں جانے کےلیے مومن کے اعمال بھی ضروری ہوں گے مگر کافی  نہ ہونگے-

بلکہ مومن پر فضل الہی ہوگا جو اس کو جنت میں لے جایےگا-

انسان کو زیب نہیں دیتا کہ وہ سوال اٹھاۓ کہ کیوں اس طرح اللہ ﷻ  نے اپنی صفات کو ظاہر کیا

کیونکہ اللہ ﷻ نے خود اپنی صفات، الحکیم اور العلیم بیان کی ہیں۔ انسان صرف اتنی باتیں سمجھ

سکتا  ہے جو اللہ ﷻ  نےاس پر ظاہر کی ہیں۔

اسی لۓ حضرت محمدﷺ  ؐ نے خبردار کیا کہ مومن کےدل میں  شیطانی قوتیں اللہ ﷻ کے بارے

میں شکوک و شبہات پیدا  کریںگی- اسی لیے ہمیں ہر وقت الله ﷻ کی پناہ طلب کرنی

چاہیے ، تاکہ ہم ایمان پر استقامت سے جمے رہیں-

Purpose of Creation – Introduction (Urdu Translation)

By | Introduction, Translation, Urdu | No Comments

تخلیق  کا مقصد ایک ایسا بنیادی اور فلسفیانہ سوال ہے جو ہمیشہ سے  انسان کی سوچ کا مرکز رہا

ہے-

انسانی ذہانت، علاماتِ تخلیق دیکھنے کے بعد یہ نتیجہ نکالتی ہے، کہ اس قدرتی شاہکار کے پیچھے یقینا  کسی بڑی ہستی کا وجود ہے ۔ اس کے بعد انسان  پرلازم ہو جاتا ہے  کہ وہ اپنا مقصدِ  حیات

سمجھے اور وہ کام کرے جو اس کے خالقِ حقیقی کو مطلوب ہیں-

تاہم ہمیشہ سے ایک قلیل تعداد میں لوگ اس نظریے کے حامی رہے ہیں، کہ اس پیچیدہ کائنات کی

تخلیق اور انسانی زندگی کا وجود محض ایک اتفاق ہے-

رہے وہ لوگ جو یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ اللہ نے آخر انسان کو کیوں بنایا؟ تو اسکا جواب

ان لا تعداد نشانیوں میں موجود ہے جو ہمارے ارد گرد پھیلی ہوئ ہیں-  مثلاً سمندروں کی گہرائ

سے لےکر دریاؤں  میں؛ وسیع اور لا محدود کائنات میں؛  ریت کے باریک ذروں سے لیکر آسمان پر چمکتے دمکتے ستاروں میں- لیکن انسان اپنی محدود سوچ کی وجہ سےاس بات کو مکمل طور

پر سمجھنے سے قاصر ہے کہ انسان کی تخلیق کا اصل مقصد ہے کیا –

آخر انسان اپنے وجود کا مقصد کسطرح جان سکتا ہے؟ جبکہ اب تک وہ یہ بھی  نہیں سمجھ پایا کہ

اسکا دماغ کس کس طرح کام سر انجام دے سکتا ہے- چنانچہ جن سوالوں کا جواب انسان اپنی عقل سے نہیں دے سکتا، وہاں یہ کام الہامی کتب سر انجام دیتی ہیں- انسان کو ہمیشہ سے خدائ رہنمائ

کی ضرورت رہی ہے، جو کہ پیغمبروں  کے ذریعے لوگوں تک پہنچی تاکہ انسان اپنا مقصدِ حیات جان سکے-

اسکے باوجود، یہودی اور عیسائ الہامی کتب کی تعلیمات میں ہم آ ہنگی نہ ہونے کی وجہ سے،

ایک حقیقت کے متلاشی انسان کو گمراہی کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہیں-

اس کے علاوہ ایک اہم سوال کے بارے میں یہ کتب خاموش ہیں، کہ انسان کا مقصدِ تخلیق کیا ہے؟!

بنیادی طور پر ان کتب کا اندازِ بیاں واضح نہیں بلکہ علا ماتی ہے- عیسائ عقیدے کےمطابق دیوتا اوتار انسان کی نجات کے لئے اس دنیا میں صرف سختیاں جھیلنے آۓ، جو کہ ایک مسخ شدہ عقیدہ ہے اور اعلی ترین اللہ ﷻ کے انصاف کے منافی ہے۔ اس عقیدہ کے تحت لوگ حضرت عیسیٰؑ

کوبطورِ خدا تسلیم کرتے ہیں، اور ان کی مقدس قربانی کو انسانیت کی راہِ نجات کا واحد رستہ

سمجھتے ہیں۔

غیر ابراہیمی مذاہب آج بھی’ پینتھسٹ’  یعنی بہت سے خداؤں کے عقیدہ پر عمل کرتے ہیں یا وہ

پولیتھسٹ ہیں یعنی وہ بہت سے خداؤں یا خدا کے اوتار پر یقین رکھتے ہیں۔- مگر یہ مذاہب ایسے

عقا ئد کو فروغ دیتے ہیں جن میں ایک ذات کو دوسری ذات پر برتری حاصل ہےاور رہبانیت کو

بھی فروغ دیتے ہیں- یہ صحیفے بھی تخلیق کے مقاصد کے بارے میں شک و شبہات کا شکارہیں-

اللہ ﷻ نہ تو شکوک شبہات پیدا کرتا ہے اور نہ ہی انسان  کے لیے کوئ مشکل چاہتا ہے-

نتیجتاً، جب الّٰلہ ﷻ نے اپنی آخری وحی بھیجی، تو اس  نے اس بات کو یقینی بنایا کہ یہ پیغام  رہتی

دنیا تک محفوظ رہے – اس آخری الہامی کتاب یعنی قرآن میں الّٰلہ ﷻ نے انسان کی تخلیق کا مقصد

واضح کردیا، جس کی مزید وضاحت الّٰلہ ﷻ کے آخری نبی ﷺ نے کر ڈالی-